96

کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کے لیے دو رکنی کمیٹی بنا دی گئی

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کے لیے کابینہ کے دو سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مطابق کمیٹی میں راجہ بشارت، چوہدری ظہیر الدین شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ملک میں امن و آشتی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

٭ پولیس اہلکار شہید، سیکڑوں افراد زخمی

لاہور میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے قائدین اور کارکنوں کے پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق ایک بیان میں لاہور کے ڈی آئی جی (آپریشنز) کے ترجمان مظہر حسین نے کہا کہ دو شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت ایوب اور خالد کے نام سے ہوئی ہے، البتہ تیسرے اہلکار کی شناخت نہیں ہو سکی تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تین پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

مظہر حسین نے بتایا کہ جھڑپوں میں کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مظاہرین نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔

انہوں نے کہا کہ مشتعل ہجوم نے لاٹھیوں اور پتھروں کا استعمال بھی کیا لیکن اس کے باوجود پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔

دریں اثنا لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ٹی ایل پی کے حامیوں کی جانب سے ایک پولیس چوکی پر حملے کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں کئی مقامات پر پولیس کی مظاہرین سے جھڑپیں ہوئیں، انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پرامن رہیں گے لیکن بعد میں انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مظاہرین کے تشدد اور گاڑیوں کی ٹکر سے شہید ہونے والے 3 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا بلند مرتبہ پایا اور ہم ان کی اس عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب حکومت غمزدہ خاندانو ں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور پولیس کے شہدا کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

دوسری جانب ٹی ایل پی کے ایک نامعلوم ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ کم از کم 500 کارکن شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی کی موت ہو چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں