95

سی ٹی ڈی کا برطرف افسر گرفتار

کراچی میں تفتیشی اداروں نے چھالیہ کے کاروبار کو بےنقاب کرنے والے مخبر کے قتل ميں ملوث خود کوحساس ادارے کا افسر ظاہر کرنے والے ملزم عثمان شاہ عرف ميجر عثمان کو گرفتار کر ليا ہے۔

انچارج سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب کے مطابق ملزم سی ڈی ٹی کا برطرف افسر ہے۔ ملزم نے ایس ایچ اوکےساتھ فضل کو اغوا کرکے قتل کیا۔اس قتل میں عثمان شاہ کے ساتھ ایس ایچ او ہارون کورائی اورفوزیہ نامی خاتون بھی شریک تھی۔

فضل کے قتل میں اب تک ایس ایچ او سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ملزم نےدوران تفتیش بیان دیا کہ 7 کروڑ روپے کی چھاليہ پکڑوانے پر فضل کو قتل کيا۔قاتل کومقتول فضل سے متعلق معلومات کسٹم اہلکار نے دی تھیں۔واضح رہے کہ کسٹمز کے مخبر فضل الرحمان کو 17جولائی 2021 کواغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ کسٹمز کے مخبر فضل الرحمان کو 17جولائی 2021 کواغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

اس سے قبل کاؤنٹرٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے چھالیہ مافیا کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم تفصیلات بتائی تھیں۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ ماہانہ کروڑوں روپے کا کالا دھن جمع کرنے والے مافیا کی اصطلاح بھی انوکھی ہے۔ چھالیہ کی بلوچستان سے کراچی منتقلی میں”لگڑی”کا اہم کردارہوتا ہے۔ جس ٹرک میں چھالیہ لوڈ ہوتی ہے اس کے آگے موٹرسائیکل پر”لگڑی”چلتا ہے۔ پہلے لگڑی راستہ کلئیر بتاتا ہے جس کے بعد ٹرک گزرتا ہے۔

تفتيشی حکام نے بتایا ہے کہ چھالیہ مافیا یومیہ40 لاکھ روپے رشوت مختلف اداروں کو دیتا ہے جبکہ ايک ٹرک یا ڈمپر کے خفیہ خانوں میں 24 ٹن چھالیہ لائی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں