135

کراچی میں چار روزہ ہیٹ ویو، ایک لہر رمضان میں بھی آئے گی

کراچی شہر میں مارچ کے آخری دنوں سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کو ہیٹ ویو کا نام دیا جا رہا ہے جو رواں ہفتے جاری رہے گی اور درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ رہے گا۔
ماہرین نے کہا ہے کہ رمضان میں بھی ہیٹ ویو کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے سربراہ سردار سرفراز کے مطابق ’اگلے تین روز تک ہیٹ ویو موجود رہے گی اور شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 سے 41 سینٹی گریڈ رہے گا۔ اس دوران موسم خشک اور ہوا میں نمی کا تناسب 10 فیصد سے کم رہے گا۔‘
کراچی میں گرمی کی اس لہر کی بنیادی وجہ جنوب سے سمندری ہوا کا تھمنا اور شمال کی جانب سے ہوا کا چلنا ہے۔  
ماہرین موسمیات کے مطابق کراچی کے موسم کو معتدل رکھنے میں سمندری ہواؤں کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب بھی کبھی کچھ دنوں کے لیے ہوا کا رخ بدلتا ہے تو شہر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
موجودہ ہیٹ ویو کے بارے میں ماہر موسمیات جواد میمن کا کہنا ہے کہ ’نہ صرف اپریل کے پہلے ہفتے میں بلکہ ماہِ رمضان کے دوران بھی درجہ حرارت بڑھنے کی توقع ہے جس کی بنیادی وجہ عمان کی جانب سے آنے والا گرم ہوا کا دباؤ ہے۔‘
جواد میمن نے بتایا کہ ’اپریل مئی کے مہینوں میں ویسے بھی کراچی کا درجہ حرارت گرم رہتا ہے، ایسے ماحول میں عمان کی جانب سے آنے والا ہوا کا دباؤ جیسے جیسے قریب آئے گا تو شہر میں گرمی بڑھے گی اور رمضان میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا بھی امکان موجود ہے۔‘

دو ہزار پندرہ میں آنے والی ہیٹ ویو کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی کے موسم کا انحصار سمندر کی جانب سے چلنے والی ہواؤں پر ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شام میں ٹھنڈی ہوا چلنے سے شہر کا درجہ حرارت قدرے کم اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلیوں اور ہوا کا دباؤ تبدیل ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں بسا اوقات جنوب کی جانب سے چلنے والی سمندری ہوا تھم جاتی ہے جو ہیٹ ویو کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔
صوبہ سندھ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہیٹ ویو الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے مقصود سومرو کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ دن گیارہ بجے سے شام چار بجے تک ہیٹ ویو کا خطرہ ہے اور درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔
2015 میں جون کے مہینے میں کئی دن تک ہوا بند رہنے سے شہر میں غیر معمولی ہیٹ ویو آئی تھی جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے ہر سال ایسا دیکھنے میں آتا ہے، تاہم ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے حکومتی اقدامات اور شہریوں کو آگاہی دیے جانے سے جانی نقصان کی روک تھام ممکن ہو سکی ہے۔

گرمی کی لہر کی وجہ  سمندری ہوا کا تھم جانا بتائی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

صوبائی محکمہ صحت نے حالیہ گرم موسم سے بچنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں جس کے تحت گرم موسم میں شہریوں کو گھر سے غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کے علاوہ مشروبات کا زیادہ استعمال خصوصاً پانی زیادہ پینے کی تلقین کی گئی ہے۔
ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے تجویز کیے گیے اقدامات کے مطابق شدید گرمی کے اوقات دن 12 بجے سے 3 بجے کے دوران دھوپ میں نقل وحرکت کو محدود رکھنا، ڈھیلے ڈھالے ہلکے رنگ کے کپڑے زیب تن کرنا، مشروبات بالخصوص پانی کے استعمال میں اضافہ اوردھوپ میں نکلتے وقت سر اور گردن کو ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے۔
 اس حوالے سے صوبائی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ نمی کا تناسب بھی بڑھتا ہے تو وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور اس میں لوگ بے ہوش ہوتے اور ان کی موت واقع ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں حالات اتنے خطرناک نہیں ہیں تاہم شہر کے ہسپتال آنے والے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں