73

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی گئی

  زرغون روڈ سرینا چوک پر واقع ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے سے چار افراد جاں بحق اور دو سرکاری افسروں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے،   

تحقیقات کے دوران پولیس کومزید شواہد ملے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دھماکا خودکش ہوسکتا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی گئی ۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چینی سفیر بھی ہوٹل میں ٹہرے ہوئے تھے تاہم دھماکے کے وقت وہ ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ اظہر اکرام نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ روز ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والی دہشت گردی میں 40 سے 50 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ، جس حصے میں دھماکا ہوا وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کار کے پارکنگ میں داخل ہوتے ہی دھماکا ہوجاتا ہے، کار سے کوئی شخص نکلتا دکھائی نہیں دیتا، اس لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ دھماکا خود کش تھا۔

انگریزی جریدے گلوبل ویلج سپیس اور سینئر صحافی سلمان مسعود نے بتایا کہ پاکستانی طالبان ( ٹی ٹی پی) نے کوئٹہ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی اور کہا ہے کہ انہوں نے مقامی اور غیرملکیوں کو ٹارگٹ کیا تاہم کسی بھی ہدف کی شہریت نہیں بتائی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں