115

کیا شوگر اسکینڈل کیس میں جہانگیر ترین،حمزہ شہباز کی گرفتاری کا امکان ہے؟

شوگر مافیا کے گرد گھیرا تنگ، ایف آئی اے نے کمر کس لی، گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر مافیا کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے ذریعے 110 ارب روپے کی کمائی کا انکشاف بھی سامنے آگیا، اور اس میں ملوث افراد پر ہاتھ ڈالنے کے لیے 20 ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کے انسداد بدعنوانی کے دائرے میں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے جے ڈی ڈبلیو گروپ اور لاہور کے گورمیٹ بیکرز اینڈ سویٹس پرائیوٹ لمیٹڈ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 420، 468، 471 اور 109 سمیت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3/4 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق شوگر مافیا کے خلاف تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شوگر انڈسٹری، شوگر بروکرز اور ان کے سٹا ایجنٹوں ،شوگر ملز کے ساتھ مل کر شوگرسٹا مافیا بن گئے اور واٹس ایپ گروپس پر خفیہ انداز میں کام کیا جارہاہے، تاکہ چینی کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھایا جاسکے اور چینی کی قلت پیدا کی جاسکے۔

انکوائری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سٹا مافیا نے گزشتہ ایک سال میں چینی کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کا غبن کیا جو 11 فروری 2020 کو روپے فی کلو تھی اور 21 مارچ 2021 کو 90 روپے فی کلو ہوچکی اور اب رمضان میں اسے 110 روپے فی کلو تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ ملک کے سر فہرست رجسٹرڈ کاروبار، جیسے گورمیٹ بیکرز اینڈ سویٹس پرائیوٹ لمیٹڈ لاہور، کو سٹا مافیا کے ایجنٹس نے چینی کی اصل کھپت اور کاروبار کا ٹرن اوور چھپا کر بڑے اکاؤنٹنگ اور ٹیکس فراڈ کیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پرائسنگ پلیئر ملک آباد علی سے تشویش کی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ انہیں شوگر ملز کے مالکان اور عہدیداروں نے مدد فراہم کی ہے لہذا تحقیقات کے دوران ان کے کردار کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ شوگر کے بڑے گروپس بشمول پنجاب اسمبلی میں جہانگیر ترین اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی سربراہی میں چلنے والے گروپس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

عہدیدار کے مطابق شوگر مافیا نے ایک سال میں قیاس آرائی کی قیمتوں کے ذریعے 11 ارب روپے کمائے اور اس آمدنی کو چھپانے کے لیے متعدد خفیہ اور جعلی بینک اکاؤنٹ کھولے گئے، ایف آئی اے نے چند ’شوگر پرائسنگ پلیئرز‘ سے 32 موبائل فونز اور لیپ ٹاپ قبضے میں لیےاور بڑے گروپس کے خلاف متعلقہ شواہد اکٹھے کیے تھے۔

ایف آئی اے لاہور نے گزشتہ نومبر میں شوگر اسکینڈل میں جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، ان کے بیٹے حمزہ اور سلیمان شہباز اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ، فراڈ اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات درج کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں