82

کیپیٹل ہل حملہ: ایک پولیس اہلکار اور حملہ آور ہلاک، وائٹ ہاؤس میں پرچم سرنگوں

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔

واقعے میں ایک گاڑی عمارت کے پاس لگی سکیورٹی رکاوٹ سے جا ٹکرائی اور گاڑی سے ایک شخص نکل کر پولیس اہلکاروں کی طرف چاقو لے کر دوڑا۔

پولیس اہلکاروں نے حملہ اور پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔

جنوری میں کیپٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے دھاوا کیا گیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والے واقعے کو ’دہشت گردی‘ کا واقعہ نہیں کہہ سکتے۔

واشنگٹن ڈی سی کے محکمہ پولیس کے قائم مقام سربراہ رابرٹ کونٹی نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ چاہے سکیورٹی حکام کے خلاف تھا یا کسی اور کے بارے میں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کی پوری تفتیش کریں اور اس کی تہہ تک جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے مشہور چہرے ‘کیو اینون شامان’ پر مقدمہ

کیپیٹل ہل پر مظاہرین کا دھاوا: کیا امریکہ کا پاکستان سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟

کیپیٹل ہل پر چڑھائی کی پانچ حیرت انگیز اور وائرل ہونے والی تصاویر

امن و امان قائم کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے دو ذرائع نے بی بی سی کے پارٹنر میڈیا ادارے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ 25 سال کے حملہ آور کا نام نوح گرین اور اس کا تعلق انڈیانا سے تھا۔

ذرائع کے مطابق اس شخص کے بارے میں پولیس کے پاس کوئی سابقہ معلومات نہیں تھیں۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر نوح گرین کے نام سے بنے ایک اکاؤنٹ پر مارچ میں ایک پوسٹ شائع کی گئی تھی جس میں کہا گیا انھوں نے حال ہی میں اپنی نوکری چھوڑ دی ہے اور ان کا اصل مقصد روحانی سفر شروع کرنا تھا۔

بعد میں حذف کیے گئے اس پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’میں غیر ارادی طور پر جو ادویات لے رہا تھا اس کے سائیڈ افیکٹ سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔‘

نوح گرین نے اس کے علاوہ سیاہ فام قوم پرست اور مذہبی تنظیم نیشن آف اسلام میں بھی اپنی دلچسپی کے بارے میں کافی کچھ لکھا تھا۔

فیس بک کے ترجمان نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ یہ اکاؤنٹ اسی شخص کا ہے جس پر حملہ کرنے کا شبہ ہے۔

واقعے میں ہوا کیا تھا؟

واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل اور ملحقہ علاقے کو پولیس کی جانب سے ‘بیرونی حملے کے خطرے’ کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔

کیپٹل پولیس کا کہنا ہے کہ دو افسران پر ‘گاڑی دوڑانے’ کی اطلاعات کے بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس واقعے کے مشتبہ شخص اور حادثے میں زخمی ہونے والے دونوں افسران کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کیپیٹل ہل کے باہر سے حاصل ہونے والی ویڈیو میں ایک گاڑی کو کمپلیکس میں موجود ایک رکاوٹ سے ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مرنے والے پولیس اہلکار کون تھے؟

حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس افسر کی شناخت بھی عام کردی گئی ہے۔

پریس کانفرنس میں، ایگزیکٹو کیپیٹل پولیس چیف نے کہا کہ انہیں یہ کہتے ہوئے سخت افسوس ہوا ہے کہ آفیسر ولیم بلی ایونز اب نہیں ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایونز گذشتہ 18 سالوں سے کیپیٹل پولیس فورس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

جائے وقوع سے سامنے آنے والی فوٹیج میں ایک ہیلی کاپٹر کو فضائی نگرانی کرتے دیکھا گیا ہے جبکہ دو افراد کو ایمبولینس کے ذریعے منقتل کرتے دکھائی دیا ہے۔ جبکہ موقع پر موجود افراد کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے حملے کی مذمت

امریکی صدر جو بائڈن نے اس حملے پر گہرہ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

متاثرہ افراد کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے انھوں نے وائٹ ہاؤس سے پرچم سرنگوں کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈیموکریٹک ہاؤس سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ امریکہ دل شکستہ ہے اور انھوں نے مارے جانے والے پولیس اہلکار کو ’جمہوریت کا شہید‘ قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں