133

گلے کیلئے استعمال ہونے والی”اسٹریپ سلز” کو بطور دوا تسلیم کرنے سے انکار

مسابقی کمیشن پاکستان(سی سی پی)نے گلے کیلئے استعمال ہونے والی”اسٹریپ سلز” کو بطور دوا تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے

ادارے کی رپورٹ کے مطابق سی سی پی نے اسٹرپ سلز کی بطور دوا تشہیری مہم کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے دوا ساز کمپنی ریکٹ بینکائرز کو 15 کروڑ روپے کاجرمانہ عائد کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی سی پی کو ریکٹ بینکائرز سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں کہ کمپنی اپنی پراڈکٹ “اسٹریپ سلز” کی بطور دوا تشہیر کررہی ہے اور دعویٰ کررہی ہے کہ گلے کی خرابی، کھانسی جیسے مسائل میں اسے ایک دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جو بالکل غلط دعویٰ ہے۔
شکایات میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 2005 میں اس کمپنی اسٹریپ سلز کو بطور دوا رجسٹر کروالیا تھا، مگر جب اسے دوبارہ جاری کیا گیا تو اس پر صرف ایک ڈسکلیمر “نان میڈیکیٹڈ لوزنجز” پرنٹ کیا گیا اور صارفین کی آگاہی کیلئے کوئی مہم نہیں چلائی گئی کہ اب سے اسٹریپ سلز بطور دوااستعمال نہیں کی جاسکتی۔
سی سی پی نے شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کی جس کے بعد تمام تر الزامات درست ثابت ہوئے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے سی سی پی نے مسابقی ایکٹ کی سیکشن10 کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں