22

گوادر بندرگاہ کے علاوہ مستقبل میں سیاحت کے لیے بھی انتہائی پرکشش

نوے کی دہائی تک ماہی گیروں کی چھوٹی سے بستی گوادر میں جب بحریہ کے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے تو مچھلی کے بدلے مقامی لوگ آنے والوں سے پیسوں کے بجائے خوشی خوشی چاول اور تیل لیتے تھے۔ آج اسی چھوٹی سی بستی کے سامنے دنیا کی گہری ترین بندرگاہوں میں سے ایک پاکستان چین بندرگاہ موجود ہے۔

گوادر کرکٹ سیٹڈیم کی ایک تصویر اور خوبصورت ساحل ثابت کر چکے ہیں کہ یہ علاقہ بندرگاہ کے علاوہ مستقبل میں سیاحت کے لیے بھی انتہائی پرکشش ہے۔

سنہ 2002 میں فوجی آمر اور سابق صدر پرویز مشرف نے یہاں کے لوگوں کو معاشی ترقی کی نوید سنائی تھی۔ ان دو دہائیوں نے گوادر کے نقشے میں بندرگاہ کے ساتھ ساتھ اور بھی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔

شہر میں داخل ہوں تو تعمیری منصوبے دکھائی دیتے ہیں، یہاں کا پوش علاقہ نیو ٹاؤن ہے اور اس کے ساتھ ہی بندرگاہ سے چند سو میٹر دور اولڈ ٹاؤن ماہی گیروں کی قدیم بستی ہے، دوسرے لفظوں میں یہاں کے باسیوں کا مرکز یہی ہے۔

خوبصورت میرین ڈرائیو سے پورٹ روڈ کی جانب جاتے ہوئے اطراف میں بنی خستہ حال دکانیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور گندگی سے اٹی چھوٹی بڑی گلیاں یہ میرے لیے گوادر کا دوسرا چہرہ ہے۔

کسی بڑے شہر کے انتہائی پسماندہ علاقے کی تصویر لیکن آپ اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ یہی وہ بستی ہے جس کا ایک حصہ درجنوں خاندانوں نے بندرگاہ کے لیے چھوڑا تھا۔

شاہی بازار ہو یا جنت مارکیٹ وہاں بجلی کی سہولت سے محروم چھوٹی چھوٹی اندھیرے میں ڈوبی دکانیں آپ کو خستہ حال معاشی صورتحال کے بارے میں بنا پوچھے آگاہ کرتی ہیں اور لوگوں سے جب پوچھیں کہ بجلی کتنی دیر آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ایران سے آنے والی بجلی چند گھنٹے ملتی ہے۔

اس روز گوادر کے کرکٹ سٹیڈیم ’محمد اسحاق بلوچ‘ میں ایک میچ ہو رہا تھا اور بہت سے سیاح بھی آئے ہوئے تھے مگر یہاں سے چند فرلانگ دور شہر کی گلیوں میں ایک احتجاج بھی ہو رہا تھا۔

مظاہرین کے مطالبات تھے کہ چین کی معاونت سے بننے والے ایکسپریس وے کی تعمیر سے ان کے گھر متاثر ہوئے جس کا انھیں معاوضہ دیا جائے، نکاسی آب کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بیماریاں پھیل رہی ہیں، شہر میں روزگار کے محدود مواقع ہیں اس لیے انھیں بندرگاہ پر نوکریاں دی جائیں، ماہی گیروں کو لیبر کا درجہ دیا جائے ورنہ وہ دھرنا دیں گے۔

بندرگاہ ایک ریڈ زون

نئی تعمیر ہونے والی بندرگاہ تو ایک ریڈ زون کا منظر پیش کرتی ہے جہاں آپ اجازت نامے کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے البتہ پرانی بندرگاہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے دیکھ ضرور سکتے ہیں۔

جیٹی کے درمیان میں ایک بڑا سا ہال ہے جو دونوں اطراف سے کھلا رہتا ہے۔ اندر مچھلی بک رہی ہے۔ اسی ہال کے ایک جانب سے چند گز کے فاصلے پر پاکستان چین بندرگاہ صاف دکھائی دیتی ہے۔ سفید، نیلے اور نارنجی رنگ کے کنٹینرز، آلات، مشینری اور دفاتر دکھائی دیتے ہیں۔

ایک خوبصورت منظر جسے آپ کیمرے میں قید تو کرنا چاہیں گے، لوگوں سے بات بھی کرنا چاہیں گے لیکن اگر کسی سکیورٹی گارڈ نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔

مقامی ماہی گیروں کی مشکلات

یہ بندرگاہ گوادر کے مشرقی ساحل دیمی زر پر ہے لیکن اسے ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی ایکسپریس وے کی وجہ سے اب کشتیاں بمشکل کنارے پر آتی ہیں۔ یہ کنارہ ریت اور کنکریٹ سے اٹا دکھائی دیا۔

ایکسپریس وے روڈ 85 فیصد بن چکی ہے لیکن مقامی ماہی گیر بتاتے ہیں کہ ’گھروں کو نقصان تو پہنچا لیکن سمندر کو بھی 300 فٹ تک پیچھے کیا گیا اور کشتیوں کا ٹھکانہ بھی ختم ہو گیا۔ اب لانچوں کی صفائی کے لیے ہمیں دور پشکان اور سربند جانا پڑتا ہے۔‘

مقامی ماہی گیروں کے مطابق بریک واٹر (گودی) نہ ہونے کے باعث کھلے سمندر میں رہنے سے 2018 سے اب تک 50 سے زائد کشتیاں مکمل تباہ ہو چکی ہیں اور 200 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دو سال کے انتظار کے بعد بریک واٹر (گودی) بن رہا ہے جس کی تیاری کے لیے ہمیں مزید دو سال انتظار کرنا ہو گا۔‘

ماہی گیر اور فیکٹریوں کے مالکان اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ جلد یا بدیر انھیں یہ جگہ بھی چھوڑنی ہی پڑے گی۔

شہر سے دور سرحدی علاقے کے ان ماہی گیروں کا مسئلہ کشتیوں کے لیے ایندھن اور بھٹک کر ایرانی حدود میں جانے کا تو ہے ہی لیکن یہ بڑے ٹرالرز سے بھی تنگ ہیں۔

ایک مقامی ماہی گیر یار محمد دن ڈھلنے سے پہلے اپنے جال کو سمیٹ رہے تھے۔ وہ بتانے لگے کہ ’کراچی کے ٹرالرز آ کر ہمارے علاقے میں بڑا جال پھینکتے ہیں جس سے چھوٹی مچھلی اور مچھلی کے انڈے بھی ختم ہو رہے ہیں۔‘

گوادر میں پانی بجلی اور گیس کا مسئلہ

جیوانی سے واپسی پر ایک ٹینکر کے کنارے مجھے برتن اٹھائے بہت سے لوگ دکھائی دیے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ نیوی کے ٹینکر سے پانی مل رہا ہے۔

گوادر شہر میں اب بھی پانی، بجلی اور گیس کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

نیو ٹاؤن کی رہائشی عارفہ نے مجھے بتایا کہ ’نیو ٹاؤن میں ہفتے میں ایک بار جبکہ اولڈ سٹی میں 15 دن بعد آدھے گھنٹے کے لیے سوڈ ڈیم سے پانی گھروں میں لگے پائپس میں آتا ہے۔ گھروں میں بورنگ کر بھی لیں تو پانی تو نیچے سے سمندر کا ہی آتا ہے کھارا جسے نہ پی سکتے ہیں نہ نہا دھو سکتے ہیں۔‘

گوادر شہر سے لے کر پشکان اور پھر جیوانی پر پاک ایران سرحد تک جانے کے لیے آپ کو پکی سڑک سے اندر موجود آبادی سے گزرنا ہو گا۔ کچے پکے چھوٹے بڑے گھروں کے ساتھ اومانی دور میں بنائے گھر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں لا تعداد ہاؤسنگ سکیمیں ہیں لیکن نصف سے زیادہ کو اب تک گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کا این او سی نہیں مل سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں