53

ہاؤسنگ اتھارٹی کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ میں درخواست

اسلام آباد: فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ’بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے کے قانونی کاموں کو انجام دینے اور حاصل شدہ اراضی کی ترقی میں رکاوٹوں‘ کے خلاف عدالتی تحفظ حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں۔

 جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں پر آج سماعت کرے گا۔

دورانِ سماعت محمد اکرم شیخ ایف جی ای ایچ اے کی نمائندگی کریں گے اور محمد منیر پراچہ ڈائریکٹر جنرل کے وکیل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے نئے سیکٹرز میں ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی

درخواست گزاروں نے عدالت عظمیٰ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 20 اگست کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرک کورٹس کے حاضر اور سابق ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹس معطل کردی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف معاملہ مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ کے سامنے پیش کیا بلکہ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اسلام آباد کے ایف-14 اور ایف-15 سیکٹرز میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی قرعہ اندازی میں ورچوئلی ضلعی عدالتوں کا ہر جوڈیشل افسر مستفید ہونے والا تھا۔

تاہم ہائی کورٹ نے اسے مفادات کے تصادم کے طور پر دیکھا کیونکہ پلاٹ مارکیٹ کی قیمتوں سے کافی کم قیمت پر دیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:کسی جج نے پلاٹ الاٹمنٹ کیلئے درخواست نہیں دی، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید برآں فہرست میں کچھ ایسے عدالتی افسران کے نام بھی شامل تھے جنہیں بدعنوانی یا بدعنوانی کی وجہ سے برطرف کردیا گیا تھا۔

ایف جی ای ایچ اے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں میں استدلال کیا گیا کہ ہائی کورٹ آئین کی دفعہ 199 کے تحت از خود دائرہ اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی اور وہ اس دفعہ کو صرف اس صورت میں استعمال کرسکتی ہے جب کوئی متاثرہ فریق اپیل دائر کرے۔

اپیلوں میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں نے اراضی کے حصول کو چیلنج نہیں کیا تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ایف جی ای ایچ اے کے لیے اراضی حاصل کی جاسکتی ہے اور کون اتھارٹی کے لیے حاصل کی گئی زمین سے نکالے گئے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا اہل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیوروکریٹس اور ججوں کو ایک سے زائد پلاٹوں کی الاٹمنٹ غیر قانونی قرار

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 اگست کے فیصلے سے وہ سوالات اٹھائے جنہیں پٹیشنر نے نہیں اٹھایا تھا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی رائے مانگی گئی تھی۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ از خود اختیار کے مترادف ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس نہیں ہے۔

درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ عدالت دفعہ 199 کے تحت دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے، متاثرہ فریق یا کسی شخص کی شکایت سے تجاوز نہیں کرسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں